کبھی کبھی ایسا کرلیا کریں

تنخواہ لے کر گھر پہنچتے ہی فوڈ پانڈا والوں کو فون کرکے انہیں ایک چکن بروسٹ، ایک منرل واٹر اور ایک سافٹ ڈرنک کا آرڈر بُک کرایا اور ڈیلیوری کا انتظار کرنے لگا کُچھ دیر بعد ہی کوئی 21/22 سال کا ایک پیارا سا نوجوان رائیڈر میرے دروازے پر پارسل کے ساتھ موجود تھا رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے پُوچھا بیٹا کہاں تک پڑھے ہو۔

[AdSense-A]


اُس نے بتایا کہ وہ بی اے پاس ھے، میرے مزید کُریدنے پر بولا کہ اُس کے والد فوت ہوچکے ہیں۔ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری اُسی کے کاندھوں پر آن پڑی ھے، پانچ بہن بھائی ہیں جو چھوٹے ہیں اس لیے مُجھے تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی، اب رائیڈنگ کے ذریعے اپنی والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کرتا ہوں۔ سر آپ نے یہ آرڈر دیا تھا، وہ ایک دم اپنے مُدعے پر آگیا میں نے جیب سے بٹوہ نکالا، 380 روپے کا بل ادا کیا، اور پرس میں سے مزید ایک ہزار روپے نکال کر اُس کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے کہا یار یہ آرڈر میں نے اپنے لیے نہیں بلکہ آپ کے لیے بُک کرایا تھا، آج تُم ہمارے مہمان ہو، یہ کھالینا پلیز وہ حیرت زدہ آنکھوں سے مُجھے دیکھتا رہا، اُس آنکھیں کی “مخصوص چمک” دیدنی تھی، میں نے سلام کیا اور گھر واپس آگیا دوستو فوڈ سپلائی رائیڈرز کی اکثریت کی یہی حالت ہوتی ھے، حالات کے مارے یہ نوجوان کوئی معقول ملازمت نہ ملنے کے باعث شدید معاشی مُشکلات سے پریشان ہوکر اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کی ذمہ داری اُٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں، اِن میں سے کئی نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں عرض یہ کرنی تھی کہ اِن کے ساتھ نرمی والا معاملہ برتا کریں “کبھی ایک ایسا ہی” چھوٹا سا آرڈر” آپ بھی بُک کرائیں جو آپ کے لیے نہ ہو”۔

Jaims Marker

News reporter, articles writer, blogger from Attock, works for JuloyeNas.com